(روزنامہ جرأت)چین کی ایک نجی کمپنی لینڈ اسپیس نے اپنے زیوکیو 3 راکٹ کو زمین کے مدار میں بھیجنے کے بعدکامیابی سے لینڈ کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔یہ پہلی بار ہے جب کسی چینی کمپنی نے زمین کے مدار میں راکٹ لانچ کرنے کے بعد اسے اس طرح لینڈ کیا۔اس سے قبل 10 جولائی کو بھی چینی سرکاری ادارے چائنا ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کارپوریشن کے لانگ مارچ 10 بی راکٹ نے بھی ایسا کیا تھا۔
لانگ مارچ 10 بی نے ایسا زمین پر واپسی کے دوران کچھ بیرونی معاونت سے کیا مگر زیوکیو 3 زمین پر سیدھا آکر کھڑا ہوا اور ایسا اس کی لینڈنگ لیگز (legs) کی بدولت ممکن ہوا۔لینڈ اسپیس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ یہ چین کا پہلا ایسا مشن تھا جس میں لانچ کے بعد راکٹ لینڈنگ لیگز کے ذریعے زمین پر کامیابی سے کھڑا ہوا۔
کمپنی نے بتایا کہ یہ اس راکٹ کی پرواز کے حوالے سے بہت اہم ٹیسٹ تھا جو ٹیکنالوجی پیشرفت کو ثابت کرتا ہے اور اس کے بار بار استعمال کی تصدیق کرتا ہے۔بیان میں مزید بتایا گیا کہ اس مشن سے راکٹ کے ڈیزائن اور قابل انحصار ہونے کی تصدیق بھی ہوتی ہے اور فرسٹ اسٹیج ریکوری یا لینڈ سے یہ ثابت ہوتا ہے۔
دیکھنے میں زیوکیو 3 اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ سے ملتا جلتا ہے، جس نے سب سے پہلے 2015 میں پرواز کے بعد لینڈنگ کا کامیاب مظاہرہ کیا تھا اور اب تک 600 سے زائد بار ایسا کیا جاچکا ہے۔
دونوں راکٹوں کے ری یوز ایبل بوسٹرز اور لمبائی بھی لگ بھگ ملتے جلتے ہیں جبکہ لفٹنگ پاور بھی ایک جیسی ہے۔
البتہ دونوں راکٹوں میں استعمال ہونے والا ایندھن مختلف ہے۔
فالکن 9 میں لیکوئیڈ آکسیجن اور راکٹ گریڈ کیروسین کو استعمال کیا جاتا ہے جبکہ زاکیو 3 مین لیکوئیڈ آکسیجن کے ساتھ سیال میتھین کو استعمال کیا گیا ہے۔یہ راکٹ شمال مغربی چین کے ڈونگ فینگ کمرشل اسپیس زون سے لانچ کیا گیا تھا اور یہ اس راکٹ کی پرواز دوسری آزمائش تھی۔لانچ کے دوران یہ راکٹ زمین کے مدار میں پہنچا اور سیٹلائیٹ کو خلا میں چھوڑا جس کے بعد پھر واپس آکر زمین پر لینڈ کر گیا۔یہ نیا راکٹ چین کی جانب سے راکٹ کو بار بار استعمال کرنے کے حوالے سے اہم پیشرفت ہے۔




