labanonbairut

اسرائیلی حملوں میں امدادی کارکنوں کی ہلاکت پر لبنانی وزیراعظم کا سخت ردعمل، ’جنگی جرائم‘ قرار دے دیا

(روزنامہ جرأت)لبنان کے وزیراعظم نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں امدادی کارکنوں کی ہلاکت پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے کھلا ’جنگی جرم‘ قرار دیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب ایک عمارت پر دو مرتبہ فضائی حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 5 افراد جاں بحق ہوگئے جن میں 3 امدادی کارکن بھی شامل تھے۔لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق پہلا حملہ ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنا کر کیا گیا، جس کے بعد امدادی ٹیمیں زخمیوں کو نکالنے کے لیے موقع پر پہنچیں، تاہم اسی دوران دوسرا حملہ کیا گیا جس میں امدادی اہلکار ملبے تلے دب گئے اور بعد ازاں ان کی موت کی تصدیق کی گئی۔لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امدادی اداروں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے کو عالمی فورمز پر اٹھائے گی اور اسرائیل کو اس کے اقدامات کا جوابدہ بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
دوسری جانب لبنان کے صدر جوزف عون نے بھی اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں اور امدادی کارکنوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کی جانب سے حملے جاری ہیں۔لبنانی فوج کے مطابق دوسرے حملے میں دو فوجی اہلکار بھی زخمی ہوئے، جب کہ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی افواج نے اس دوران ایک فوجی گشتی ٹیم کو بھی نشانہ بنایا جو امدادی کارروائیوں میں مصروف تھی۔
واضح رہے کہ امریکا کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں کشیدگی برقرار ہے اور اسرائیلی حملوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ دوسری جانب حزب اللہ بھی ان حملوں کے جواب میں راکٹ اور ڈرون حملے کر رہی ہے، جس سے خطے میں صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔لبنانی حکام کے مطابق مارچ کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں ہزاروں افراد جاں بحق اور زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ عالمی برادری کی خاموشی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں