کوئٹہ: (روزنامہ جرأت)زیارت میں مسلح افراد کی جانب سے پولیس چوکی پر حملہ کیا گیا جس دوران فائرنگ کے تبادلے میں 9 اہلکار شہید ہو گئے جبکہ کلیئرنس آپریشن کے دوران 15 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ایس پی زیارت کے مطابق مانگی میں مسلح افراد نے پولیس چوکی پر حملہ کیا، فائرنگ کے تبادلے میں 9 پولیس اہلکار شہید ہو گئے۔
ایس پی زیارت عبدالقدوس نے بتایا کہ شہید پولیس اہلکاروں کی میتیں ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 5 پولیس اہلکاروں کو حملہ آور اپنے ساتھ بھی لے گئے، مغوی پولیس اہلکاروں کی بازیابی کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے زیارت میں بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے 9 پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا۔محسن نقوی نے شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کرتے ہوئے صبر جمیل کی دعا کی۔
انہوں نے کہا کہ امن کی خاطر جانیں قربان کرنے والے شہداء ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں، شہدا کی لازوال قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا، ایسے بزدلانہ حملے امن کو سبوتاژ نہیں کر سکتے۔وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون شاہد رند کا کہنا ہے کہ زیارت میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کےخلاف کلیئرنس آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے، ایف سی، پولیس، سی ٹی ڈی، ایس او ڈبلیو اور اے ٹی ایف نےکلیئرنس آپریشن مکمل کیا۔ان کا کہنا تھا فتنہ الخوارج کےدہشت گردوں کو بلوچستان کے امن سے کھیلنے کی بھاری قیمت چکانا پڑی، سکیورٹی فورسز اور پولیس نے دہشت گردوں کے مذموم عزائم خاک میں ملا دیے، کلیئرنس آپریشن کے دوران 15 دہشت گرد ہلاک کردیےگئے۔شاہد رند کے مطابق فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے حملے میں پولیس کے 9 افسران و اہلکار شہید ہوئے، شہداء میں ایس ایچ اوز تھانہ منگی اور تھانہ کواس، اے ٹی ایف انچارج اور دیگر اہلکار شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ڈی ایس پی غلام سرور سمیت 8 پولیس اہلکاربحفاظت تھانہ کاچ پہنچ گئے، کانسٹیبل رضوان کو بھی بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا ہے۔
ترجمان وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا بلوچستان میں دہشت گردوں کے لیےکوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں، ہر حملے کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، دہشت گردوں کےخلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری رہیں گی۔




