bushrabibi

نجی اسپتال میں بشریٰ بی بی کی دائیں آنکھ کا آپریشن، سرجری کے بعد واپس اڈیالہ منتقل

(روزنامہ جرأت)راولپنڈی کے نجی اسپتال میں بشریٰ بی بی کی آنکھ کا آپریشن ہوا ہے، سرجری کے بعد انہیں واپس جیل منتقل کردیا گیا۔جیل ذرائع کے مطابق بشریٰ بی بی نے دائیں آنکھ کی بینائی متاثر ہونے کی شکایت کی تھی جس پر جیل انتظامیہ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ماہرین چشم سے انکا معائنہ کرایا۔
جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی کی دائیں آنکھ میں ریٹینل ڈیٹچمنٹ (Retinal Detachment) تشخیص ہوا ہے جس کے پیش نظر ڈاکٹرز نے انکی سرجری کا مشورہ دیا، 16 اپریل کی شام مریضہ کو راولپنڈی کے نجی اسپتال منتقل کیا گیا۔
جیل ذرائع کے مطابق سرجری سے قبل ضروری ٹیسٹ اور طبی معائنہ مکمل کیا گیا، مریضہ نے آپریشن کی رضامندی دی، سرجری پروفیسر ڈاکٹر ندیم قریشی اور پینل نے انجام دی، سرجری اور ایک رات اسپتال میں قیام کے بعد مطمئن حالت میں مریضہ کو ڈسچارج کر دیا گیا۔جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن کے بعد کے معائنے اور فالو اپ ڈاکٹرز کے مشورے مطابق کیے جائیں گے، مریضہ کو واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا بیان:
ایکس پر جاری پیغام میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مجھے پیغام کے ذریعے اطلاع دی گئی کہ بشریٰ بی بی کو گزشتہ رات اسپتال منتقل کیا گیا تھا، بشریٰ بی بی کے علاج کے حوالے سے مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ درخواست ہے کہ بشریٰ بی بی سے فیملی کی ملاقات کروائی جائے، بانی چئیرمین پی ٹی آئی کی فیملی کی بھی ملاقات کرائی جائے اور انہیں بھی اسپتال منتقل کیا جائے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ علاج معالجے تک رسائی بنیادی اور قانونی حق ہے، بانی کی صحت کے حوالے سے بھی ہر پاکستانی کو تشویش ہے۔
مزید برآں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی شفیع جان نے اپنے بیان میں کہا کہ بشریٰ بی بی کی صحت سے متعلق خبریں نہایت تشویشناک ہیں، پنجاب حکومت کی جانب سے بشریٰ بی بی کی صحت اور ہسپتال منتقلی کے معاملے پر غفلت اور خاموشی افسوسناک ہے۔

شفیع اللہ جان نے کہا کہ پنجاب حکومت عمران خان اور بشریٰ بی بی کی صحت کے معاملے میں مسلسل غفلت برت رہی ہے، بشریٰ بی بی کو بنیادی طبی سہولیات سے محروم رکھنا آئین و انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی ایک غیر سیاسی خاتون ہیں، پنجاب حکومت کا سیاسی انتقام پر مبنی رویہ کسی صورت قابل قبول نہیں، عمران خان کو کمزور کرنے کے لیے وفاقی اور پنجاب حکومتوں کے ہتھکنڈے پہلے بھی ناکام رہے ہیں اور آئندہ بھی ناکام ہوں گے۔ عمران خان کو کمزور کرنا بغیر مینڈیٹ والی وفاقی اور پنجاب حکومتوں کا خواب ہے جو کبھی پورا نہیں ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں