(روزنامہ جرأت)وائٹ ہاؤس میں حملہ کرنے والے ملزم کی جانب سے حملے سے 10 منٹ قبل اہلخانہ کو بھیجا گیا پیغام منظرِ عام پر آگیا۔امریکی حکام کے مطابق وائٹ ہاؤس میں منعقدہ کورسپونڈینٹ ڈنر میں فائرنگ کرنے والے ملزم کول ٹوماس ایلن نے ہفتے کی رات فائرنگ سے تقریباً 10 منٹ قبل اپنے اہلخانہ کو ایک پیغام ارسال کیا تھا۔
نیویارک پوسٹ کے مطابق اس دستاویز میں اس نے ٹرمپ انتظامیہ کے عہدے داروں کو نشانہ بنانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔اہلخانہ کو بھیجے گئے پیغام میں گرفتار ملزم نے اپنے اقدام کی معافی مانگی، اس کے علاوہ اس نے ٹرمپ کے عہدیداروں پر غصے کا بھی اظہار کیا اور ساتھ ہی کہا کہ اسے اہم کام ہے جو وہ کرکے ہی لوٹے گا۔ملزم نے پولیس کو دیے گئے ابتدائی بیان میں سکیورٹی پر سوالات اُٹھاتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ہیلٹن میں سیکیورٹی کے انتظامات انتہائی ناقص ہیں، اگر کوئی ایرانی ایجنٹ ہوتا تو اس سے بھی زیادہ مہلک ہتھیار اندر لاسکتا تھا، ہوٹل میں داخل ہوتے ہی جو چیز نمایاں تھی وہ حد سے زیادہ اعتماد تھا، میں کئی ہتھیار لے کر اندر آیا اور کسی نے یہ سوچنے کی زحمت نہیں کی کہ میں خطرہ ہو سکتا ہوں۔کول ٹوماس ایلن کے مطابق سکیورٹی زیادہ تر باہر مظاہرین اور آنے والوں پر مرکوز تھی، کسی نے یہ نہیں سوچا کہ اگر کوئی ایک دن پہلے آ کر ٹھہر جائے تو کیا ہوگا، یہ نااہلی حیران کن ہے، اگر میں امریکی شہری کے بجائے ایرانی ایجنٹ ہوتا تو میں یہاں ’ما ڈیوس‘ (Ma Deuce) جیسا بھاری ہتھیار بھی لے آتا تو کسی کو خبر تک نہ ہوتی۔




