islamabadhighcourt

پیپلز پارٹی کا دباؤ، 2 ججز کا تبادلہ فی الحال روک دیا گیا

اسلام آباد: (روزنامہ جرأت)اسلام آباد ہائی کورٹ کے 5 ججوں کے مجوزہ تبادلے کے معاملے میں دلچسپی رکھنے والے حلقوں کو منگل کے دن اس وقت جزوی دھچکا لگا جب پیپلز پارٹی کے دباؤ کی وجہ سے دو ججوں کا ٹرانسفر فی الحال نہیں کیا گیا۔ ذرائع نےمیڈیا کو بتایا کہ حکومتی اقدام میں پیپلز پارٹی کی مداخلت کی وجہ سے جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس ارباب ایم طاہر کے نام کم از کم فی الحال کیلئے ٹرانسفر کی فہرست سے خارج کر دیے گئے۔ ذرائع کے مطابق، صدر آصف علی زرداری کی واپسی پر اس معاملے کو دوبارہ اٹھائے جانے کا امکان ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان دونوں ججوں کے تبادلے پر مستقبل قریب میں دوبارہ غور کیا جائے۔
جوڈیشل کمیشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن کیانی،جسٹس بابراورجسٹس ثمن کے تبادلوں کی منظوری دیدی
یہ پیشرفت حکومت کے اندر سے آنے والے اُن سابقہ اشاروں کے برعکس ہے جن کے مطابق پیپلز پارٹی کو اپنے تحفظات کے باوجود بالآخر جوڈیشل کمیشن آف پاکستان میں تمام مجوزہ تبادلوں کی حمایت کرنا تھی۔ اس سے قبل، ذرائع نے بتایا تھا کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان میں پیپلز پارٹی کے ارکان نے جسٹس خادم حسین سومرو کو سندھ ہائی کورٹ اور جسٹس ارباب ایم طاہر کو بلوچستان ہائی کورٹ میں تعینات کرنے کی تجویز پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا، تاہم حکومتی ذرائع کو ووٹنگ کے وقت ان کی حمایت حاصل ہونے کا یقین تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں