ہیں تلخ بہت بندہئی مزدور کے اوقات

یکم مئی کو دنیا بھر میں مزدوروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے پاکستان مزدروں کی عالمی تنظیم آئی ایل او کا رکن ہے تاہم پاکستان میں یہ دن منانے کا فیصلہ 1972ء میں کیا گیا تھا۔ امریکہ اور کینیڈا سمیت متعدد ممالک میں یوم مزدور ستمبر میں پہلے سوموار کو منایا جاتا ہے۔اس دن کو منانے کا مقصد ہر سطح پر مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لئے تجدید عہد کرنا ہے،یہ دن شکاگو کے ان شہیدوں کی یاد تازہ کرتا ہے، جنہوں نے مزدوروں کے سماجی اور معاشی استحصال کے خلاف جدو جہد کی،جس کی پاداش میں انہیں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرنے سمیت جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑے۔اس جدوجہد کا بنیادی مقصد روزانہ آٹھ گھنٹے کام،آٹھ گھنٹے آرام اور آٹھ گھنٹے تفریح کے علاوہ دیگر امور نمٹانے کے لئے وقت کا تعین یقینی بنانا تھا۔یوم مئی پر پاکستان بھر میں مزدوروں کے حقوق اجاگر کرنے، ان کے تحفظ وحصول کو یقینی بنانے کے عزم کا عہد کیا جاتاہے۔یکم مئی کو عام تعطیل ہوتی ہے۔پرنٹ اور الیکٹرنک میڈیا اس دن کی مناسبت سے خصوصی ایڈیشنوں کی اشاعت اور مذاکروں کا اہتمام کرتے ہیں،جن میں وطن عزیز میں مزدوروں کو درپیش مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے حکومت کی کار کردگی اور دلچسپی کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ حکومت سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ آئین میں حاصل مزدوروں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔ اس پس منظر میں یکم مئی کو مزدور تنظیموں کے زیر اہتمام جلسوں اور جلوسوں کا بھی اہتمام ہوتا ہے،جن میں روزانہ اور ماہانہ اُجرت میں حالات کے تناظر میں اضافہ کے مطالبہ سمیت ملازمت کے تحفظ اور بڑھتی آبادی کے تناسب سے سرکاری، نیم سرکاری اور پرائیویٹ سیکٹر میں ملازمتوں کے مواقع فراہم کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔
© یوں تو ترقی اور علم وآگاہی کے اس دور میں بھی دنیا بھر میں کسی نہ کسی صُورت میں محنت کش طبقے کے حقوق کی پامالی جاری ہے، تاہم پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں محنت کش طبقہ کو درپیش مشکلات کا اظہار الفاظ میں ممکن نہیں، گذشتہ دو برس سے وطن عزیز کے محنت کش طبقہ کے حالات انتہائی دگر گوں ہیں، رہی سہی کسر کورونا وائر س جیسی عالمی وبا نے نکال دی ہے۔کورونا سے نجات کے لئے حکومتی سطح پر کوئی جامع اور ٹھوس حکمت عملی نہ اپنائے جانے اور خاص طور پر عوام کے غیر سنجیدہ رویوں کے باعث ہونے والی تباہ کاریوں سے زیادہ تر مزدور طبقہ متاثر ہوا ہے،جس کی بنیادی ضروریات تک پُوری نہیں ہو رہیں۔ جہاں تک مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لئے بنائے گئے قوانین کا تعلق ہے، ان قوانین کا اطلاق نہ ہونا بھی محنت کش طبقہ کے استحصال کا باعث بن رہا ہے۔حالات متقاضی ہیں کہ لیبر قوانین کے اطلاق کو یقینی بنا کر محنت کش طبقہ کے حقوق کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے،مزدور خوش حال ہو گا تو ملک خوش حال ہو گا اور معاشرہ امن کا گہوارہ بن سکے گا۔اس وقت نہ تو مزدور کی مزدوری کا تعین روز افزوں مہنگائی کے تناظر میں کیا جارہا ہے، نہ مزدور کو ملازمت کے تحفظ کا یقین کامل ہے۔قانون کی رُو سے اوقات کار کی پابندی نہیں کی جاتی۔پرائیویٹ سیکٹر میں خاص طو رپر ٹھیکیداری نظام میں مزدوروں سے دس سے بارہ گھنٹے کام لیا جاتا ہے مگر روزانہ اور ماہانہ اُجرت اس تناسب سے قانون کے مطابق ادا نہیں کی جاتی۔ ملک میں جب تک سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام رائج ہے اور ٹھیکیداری سسٹم کے تحت مزدور سے کام لیا جاتا رہے گا،مزدور کا مالی استحصال رکنا محض خواب ہے۔حکومت کو چاہیے کہ اوقات کار پر عمل درآمد یقینی بنائے اور آٹھ گھنٹوں سے زیادہ کام لینے کی صورت میں معاوضہ میں قانون کے مطابق اضافہ کیا جائے۔حکومت کی جانب سے متعین کی جانے والی روزانہ اور ماہانہ اُجرت کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے، ملک میں رائج لیبر قوانین کے تحت مزدوروں کو حاصل مراعات کا حصول یقینی بنایا جائے تومزدور دنیا کے حالات میں بھی بہتری آ سکتی ہے۔پسماندہ طبقے کو مالی مشکلات سے نکال کر خوش حال طبقہ کے برابر لانا موجودہ حکومت کے منشور کا حصہ ہے مگر مزدوروں کے بنیادی حقوق کا جتنا استحصال موجودہ دور میں ہوا ہے، ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔سرکاری اور پرائیویٹ سیکٹر میں وعدوں اور دعوؤں کے مطابق ملازمتوں کے مواقع پیدا نہیں کیے گئے، الٹا دوسال میں لاکھوں ملازمین کو ملازمت سے فارغ کردیا گیا ہے۔ایک طرف بے روزگاری، دوسرا مہنگائی کے باعث مزدور طبقہ ناقابل بیاں زبوں حالی کا شکار ہے۔اس پر مستزادیہ کہ حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے مفاد عامہ کے اقدامات کے ثمرات بھی محنت کش طبقہ تک نہیں پہنچ رہے۔ جب تک ملک میں قانون کی بالا دستی قائم نہیں ہوتی، مزدور دنیا کے حقوق کا تحفظ مشکل ہے۔ دیگر عوامل کے علاوہ محنت کش طبقہ کی مشکلات میں جہاں آسمانی آفات اور ہر سال آنے والے سیلابوں میں اضافہ ہوتا ہے، وہاں دنیا بھر میں مختلف مقامات پر جاری جنگیں بھی مزدوروں کی مشکلات اور مالی وجانی نقصان کا باعث بنتی ہیں، اس حوالے سے کشمیر اور فلسطین میں تو حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہیں، یہ ایک ایسا عالمی المیہ ہے، جس کا حل بھی اقوام عالم کی مثبت سوچ میں مثبت تبدیلی سے ہی ممکن ہے۔مردوں کے ساتھ ساتھ مزدور خواتین بھی مہنگائی اور بے روز گاری کا شکار ہیں۔کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے سے حالات مزید خراب ہوئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران مزدور دنیا کے حقوق کے تحفظ کے لئے بنائے گئے قوانین کے اطلاق میں سنجیدگی کا مظاہر ہ کریں تاکہ ملک کے کروڑوں مزدوروں کے گھروں میں بھی خوش حالی آسکے،انہیں بھی صحت اور تعلیم کی یکساں سہولتیں حاصل ہو سکیں۔افسوس کہ ہر سال یوم مئی آتا ہے اور گزر جاتا ہے مگر مزدور کی حالت بہتر ہونے کے بجائے ہر گزرتے دن کے ساتھ بدتر ہوتی جا رہی ہے، یہ صُورت حال حکمرانوں کے عوام دوستی کے دعوؤں کے بر عکس ہے۔حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے منشور کے مطابق پسماندہ طبقے کو مالی لحاظ سے اوپر لانے کے لئے جامع منصوبہ بندی کرے اور ایسے اقدامات اٹھائے جن سے مزدوروں کے حقوق کا تحفظ یقینی ہو سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں