سیاسی کرامات

مملکت خدادادپاکستان تعالیٰ کا ایک خاص انعام ہے۔ اس کا قیام کسی کرامت سے کم نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس مملکت کا نظام بھی کرامات کے ذریعے ہی ابھرتا، ڈوبتا، تیرتا چلا جارہا ہے۔ میرا خیال یہی ہے کہ جب دنیا ڈوب رہی ہوتی ہے تو ہم ترقی کے نام پر تیر رہے ہوتے ہیں۔ جب دنیا ترقی کررہی ہوتی ہے تو ہمارا معاشی نظام ہچکولے کھاتا، ڈوبتا نظر آتا ہے اور پھر ہم کسی نئے مسیحا کی تلاش میں ٹکریں مارتے ماضی کے حکمرانوں کی ناکامیوں کا رونا روتے ہر لمحہ غیر یقینی صورت حال کا شکار رہتے ہیں۔ یہ غیر یقینی ابھی تک برقرار ہے۔ اس بارے میں حتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ اعداد و شمار کے اس گورکھ دھندے میں ایسا کب تک چلے گا؟ بس ہم شتر بے مہار آنکھیں بند کئے بار بار کرامات کے منتظر ہی رہتے ہیں کہ کب آسمان سے من و سلویٰ اترے اور ہم اس پر ہاتھ صاف کریں۔ ماضی کے حالات و واقعات کے پس منظر میں اگر بات کی جائے تو ایک منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کا تختہ الٹنے کے بعد ضیاء دور میں افغان جہاد کے نام پر شروع ہونے والا ہماری معیشت کا پورا ڈھانچہ ہی کرامات پر کھڑا نظر آتا ہے۔ آس پڑوس کے حالات، ہمہ وقت جنگی صورت حال، مسئلہ کشمیر پر پاک بھارت کشیدگی، دہشت گردی، عالمی طاقتوں کے اس خطے سے جڑے مفادات سے ہماری اقتصادیات و معاشیات منسلک نظر آتی ہیں۔ افغان جہاد ہو یا نائن الیون یہ ایسی ”عالمی کرامات“ ہیں جن کی بنیاد پر آنے والے ڈالروں، اس کے عوض مجبوریوں کے نام پر ہونے والے سمجھوتوں کو ہم ہمیشہ اپنی معاشی کامیابیاں قرار دے کر یہ سمجھتے رہے ہیں کہ ملک صحیح سمت میں چل رہا ہے تو یہ خام خیالی دل سے نکال دیں کہ ہم کبھی اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں گے۔ آج خطے سے جڑے عالمی طاقتوں کے وسیع تر مفادات ایک بیوپار ہی تو ہے، اس بیوپار میں ہمارے جیسے ملکوں کے حاکم طبقات عوام کو دھوکہ دیتے ہیں کہ ڈالر آرہے ہیں ملک سے باہر تو نہیں جارہے اور ڈالروں کی وقتی آمدورفت ہی ہماری معاشی کامیابی قرار پاتی ہے، حکمران اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے ہمیشہ انکار کرتے رہے ہیں کہ عالمی مالیاتی ادارے قرضوں کی شکل میں ہمیں نواز بھی رہے ہیں اور دھتکار بھی رہے ہیں، پھر ہم حیران بھی ہوتے ہیں کہ آخر خان اعظم کے تین سالہ دور اقتدار میں ایسی کون سی کرامات ہوئیں کہ غریب غریب تر ہوگیا، امیر امارت کی تمام حدیں پھلانگ گیا خصوصاً کورونا وباکی آمد نے جہاں دنیا کی بڑی بڑی معیشتوں کو ہلا کررکھ دیا اور پاکستان کا تقریباً ہر طبقہ شدید مالی بحران کا شکار ہوا۔ اس کے باوجود ہمیں وفاقی بجٹ سے قبل خوش خبریاں ہی خوش خبریاں سنائی جارہی ہیں کہ جی ڈی پی گروتھ کی شرح 4 فیصد حاصل کرلی گئی ہے جبکہ چند ماہ قبل تک عالمی ادارے اور حکومتی ترجمان اس شرح کو دو سے تین فیصد تک رہنے کا بتا رہے تھے۔ خوشی کی خبر ہے کہ ایف بی آر نے چار ہزار ارب کا ٹیکس جمع کرکے ایک نئی تاریخ رقم کی اور ٹیکس وصولی میں اضافہ کیا۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران حکومتی سطح پر ایسی کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں جن کی داد دینا ہی پڑتی ہے کہ ریکوڈک کیس میں اثاثوں کی بحالی، پاکستانی برآمدات تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج ایشیا کی سب سے تیز ترین مارکیٹ قرار پائی۔ 36جے ایف 17تھنڈر طیارے فروخت کرنے کا معاہدہ کیا گیا۔ 22 ارب ڈالر کا قرض واپس ہوا۔ زرمبادلہ کے ذخائر 26 ارب ڈالر کو پہنچ گئے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہو رہا ہے۔ حالیہ ایک ماہ کے دوران پاکستان کی کامیابیوں میں کورونا ویکسین کی تیاری ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔ سفارتی سطح پر سب سے بڑی کامیابی سعودی عرب، خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری کا خاتمہ، اسرائیل کی غزہ پر حالیہ جارحیت کے خلاف فلسطینیوں کی حمایت میں امت مسلمہ کو متحد کرنے میں اہم کردار، عالمی فورمز پر اس حوالے سے دو ٹوک مو قف اختیار کرنا اور کویت کا دس سال بعد پاکستانیوں کے لئے ویزے کی بحالی جیسے اقدامات خانِ اعظم کی شاندار کامیابیاں قرار دی جاسکتی ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خان اعظم کے ہاتھ الٰہ دین کا ایسا کون سا چراغ لگ گیا ہے کہ راتوں رات کرامات رونما ہونے لگی ہیں۔ وہ اتنے بااعتماد انداز میں اپوزیشن کو کھلے عام للکار رہے ہیں کہ آئندہ حکومت بھی ان کی ہی ہوگی اور پاکستان پہلے سے زیادہ ترقی کرے گا۔ اِدھر ان کے ترجمان خاص فوادچودھری ہماری غربت کا مذاق اڑا رہے ہیں کہ جہاں مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے وہاں عام آدمی کی قوت خرید بھی بڑھی ہے جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان کے یہ ریمارکس ”آئی ایم ایف سے قرضے لے کر سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی خطرناک ہے۔“ پڑھتا جا شرماتا جا کہ کرامات یونہی رونما نہیں ہوتیں، ایسا اعتماد بلاوجہ پیدا نہیں ہوتا، ان خوش خبریوں کے پیچھے چھپے کچھ راز، سمجھوتے بدخبریوں کا پیغام دے رہے ہوتے ہیں۔ ماضی کے حکمران بھی ہمیں ہاتھ کی صفائی کے یہ کرتب دکھاتے رہے ہیں جن کی قیمت کسی اور نے نہیں پوری قوم کو ادا کرنی پڑتی ہے۔ افغان جہا د ہو یا نائن الیون جیسے سانحات ان کے اثرات ابھی بھی باقی ہیں۔ امریکہ کو فوجی اڈے دینے کی صرف افواہوں کی بنیاد پر افغان طالبان ہمیں دھمکیاں دے رہے ہیں۔ دہشت گرد پھر متحرک ہو چکے ہیں۔ اپنے آپ کو ”فاتح فلسطین“ قرار دینے والے ملتانی شاہ مسئلہ کشمیر کا ایک ایسا مبہم حل اپنی جیب میں لئے پھر رہے ہیں کہ جس سے امریکہ سے کچھ لو دو کی بنیاد پر خانِ اعظم کو ”فاتح کشمیر“ قرار دلوا کر آئندہ انتخابات میں ایک نئے نعرے کے ساتھ اتارا جائے گا۔ پھر سمجھ آئے گی کہ سیاسی کرامات کیسے رونما ہوتی ہیں؟


اپنا تبصرہ بھیجیں